!بہار آگئی ہے لیکن۔۔۔
ڈاکٹر خدیجہ وکیل
17/09/2026
وہی ندی
اسی کنارے
وہی لکڑی کا بینچ
جس کے پیچھے درخت تھے
اور وہی ان کو جدا کرتی
بل کھاتی روش
اور اینٹوں سے بنا راستہ
انھی پیڑوں کے عقب میں
انگریزی طرز کے
وہی جدید گھر
وہی پر سکوں ریستوران
جن کے دروازے، کھڑکیاں، بالکونیاں
اسی طرف کھلتے تھے۔
اسی لکڑی کے بینچ کے
ایک کنارے پر بیٹھا
اکیلا میں
سامنے تالاب کے ہچکولے لیتے پانی پر
تیرتی کالی بطخ اور بھورا بطخا
اور ان کے پیچھے انڈوں سے نکلے
نومولود
بادام
آلوچے
چیری
کا موسم
اور دور گگن تک
نرم روئی کی ہواگردی
اردگرد
سرما کے ٹنڈ منڈ ہوئے درختوں سے
پھوٹتی نو خیز کلیاں
نئی کونپلیں
ننھے شگوفے
ان پر
جھولتے، اٹھلاتے، گاتے، چہچہاتے
پنکھ، پکھیرو
ٹیولپ کی زرد کھلکھکاہٹیں
نرگس کی مسکراہٹیں
ہییسنتھ کے پیلے، سفید پھول
پینسی کے بہاری رنگ
وایولا کی مخملی پتیاں
اکیشیا کے گچھے
کیمیلیا کا گھنا پن
لیونڈر کے بنفشی پیرہن
ہارڈنبرگیا کی جامنی پھولوں والی آسٹریلوی بیل
کلیمیٹس کے ہلکے گلابی غنچے
وسٹریا کے لمبے، لٹکتے ارغوانی سفید
جھمکے
اور اس سب کے بیچ
میں تنہا
!کہ
اسی لکڑی کے بینچ کا دوسرا
مخالف کنارہ
خالی ہے۔
وہ پت جھڑ بننے کی چاہ رکھنے والی
سرخ، سیاہی مائل سرخ
اناری، گاجری
،احمریں، پیازی
،بھورے
،دہکتے نارنجی
،پیلے زرد
،گہرے لال
، قرمزی، عنابی
،جامنی، کشمشی
گلابی، آتشی گلابی
جدائی کے
رنگوں میں بچھڑ گئی ہے۔
ہوا میں تحلیل ہو کر
خوشبو بن کر بکھر گئی ہے۔
،میرے ہاتھوں کی گرمائش
،لمس کی حدت
قرب کی حرارت
سب برف کر گئی ہے۔
اور بہار کی ساری تازگی
خزاں کے رنگوں سے گہنا گئی ہے۔