Share
OR

فرمائش

Dr. Khydija Wakil


وہ کہتا ہے؛
خوشیوں کی باتیں کروں
خوشبووں کے گیت لکھوں
امیدوں کے لفظ بنوں

وہ کہتا ہے؛
کچھ ایسا لکھوں
جو
دل کو زخم نہ دے
ذہن کو فکر نہ دے
روح فگار نہ کرے
آنکھ کو چار نہ کرے

وہ کہتا ہے؛
تمہاری انگلیاں کاغذ پر چلیں
پریم کی خوش فہمیوں کے لئے
سب 'خوش کن ہے'، کے لئے
ہنسی خوشی انجام کے لئے

تو میں؛
کھڑکی سے جھانکتے پورے ماہتاب کے نظارے پر
گہرے، گھنے، کالے بادلوں کے پیچھے
شرارت کرتے آفتاب کو دیکھ کر

فلک کی وسعتوں میں
سفید گولے کی مانند دوڑتے ابر کے منظر میں
برستی بارش کے نیچے بھیگتے ہوئے

ندی کنارے
ساحل سمندر کی ریت پر چلتے
پرندوں کی چہکاریں سنتے
مست گدگداتی پروا کے چھوتے

،میٹھی میٹھی
،پیاری پیاری
،تمام بخیر
،نرم نرم
،بے فکر
،مثالی
قصے بننے لگتی ہوں۔

لیکن؛
،قلم، کاغذ پکڑتے ہی
،میز، کرسی سنبھالتے ہی
،چراغ کی بتی روشن ہوتے ہی
، وہ داستانیں
غائب ہو جاتی ہیں۔
منجمد ہو جاتی ہیں۔
بھک سے اڑ جاتی ہیں۔

اور میرے سامنے
آجاتے ہیں؛
بے گناہ بچیوں کے
بے کفن، ریزہ ریزہ معصوم جسم

ہاتھوں میں کشکول لئے
ننھے یتیم

بے گھر، ایک چادر کی پناہ مانگتیں
بے کس عورتیں

اجڑے، لاچار
عزت نفس کا سودا کرتے کفیل
۔۔۔
۔۔۔
۔۔۔

اور۔۔۔
وہ کہتا ہے۔۔۔
کہ۔۔۔
زندگی کی کہانی لکھوں۔۔۔
پیار کی حکایتیں ترتیب دوں۔۔۔
خوشیوں کے نغمے سناوں۔۔۔
وہ کہتا ہے۔۔۔

4
0
Name